فٹبال کلب کی جانب سے ڈریس کوڈ کا فیصلہ واپس

فوٹوگرافر کے لباس پر پابندی، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا؛ فٹبال کلب اسپورٹیوو املیانوکو فیصلہ واپس لینا پڑا

پیراگوئے میں ایک خاتون فٹبال فوٹوگرافر کے لباس پر پابندی کا معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔ کلب نے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کے لیے سخت ڈریس کوڈ متعارف کرایا، مگر شدید تنقید کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

پیراگوئے کے فٹبال میدان میں اس بار بحث کسی کھلاڑی کے گول، کسی ٹیم کی شکست یا جیت پر نہیں، بلکہ ایک خاتون فوٹوگرافر کے لباس پر چھڑ گئی۔ معاملہ اس وقت دلچسپ صورت اختیار کر گیا جب لباس سے متعلق ایک ضابطے نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا اور بالآخر فٹبال کلب کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق پیراگوئے کے فرسٹ ڈویژن فٹبال کلب اسپورٹیوو املیانو نے اتوار کو اولیمپیا کے خلاف اپنے ہوم میچ سے قبل صحافیوں اور فوٹوگرافروں کے لیے لباس کے قواعد جاری کیے۔ کلب کا مؤقف تھا کہ ان ہدایات کا مقصد ادارے کی ساکھ اور تشخص برقرار رکھنا ہے۔

تاہم، ان قواعد میں صرف عمومی لباس کی ہدایات شامل نہیں تھیں بلکہ گہرے گلے والے بلاؤز، ناف نمایاں کرنے والے لباس اور خواتین کے لیے سیاہ یا گہرے نیلے رنگ کے علاوہ دوسری رنگت کی لیگنگز پہننے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

ایک تصویر وائرل ہوئی اور معاملہ بحث بن گیا

29 سالہ فوٹوگرافر ایڈریانا کابایرو نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انسٹاگرام پر دو لاکھ سے زیادہ فالوورز رکھنے والی کابایرو کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب ان کی ایک تصویر وائرل ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کام کے دوران ہمیشہ ایسا لباس پہننا چاہتی ہیں جس میں انہیں زیادہ سے زیادہ آرام محسوس ہو۔ انہوں نے کہا کہ شاید کسی نہ کسی وقت یہ معاملہ سامنے آنا ہی تھا۔

کابایرو نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اس طرح کی پابندیاں صرف ان کے لیے نہیں بلکہ دوسرے فوٹوگرافروں اور ساتھیوں کے کام کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی تنقید، کلب کو پیچھے ہٹنا پڑا

کلب کے ڈریس کوڈ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی۔ معاملہ بڑھنے کے بعد اسپورٹیوو املیانو نے اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کردیا۔

اس واقعے نے ایک اہم سوال بھی اٹھا دیا: کیا کھیلوں کی تقریبات میں پیشہ ورانہ لباس کے اصول طے کرتے ہوئے ان افراد کی سہولت اور کام کی نوعیت کو بھی مدنظر نہیں رکھنا چاہیے جو میدان میں موجود ہو کر خبریں اور تصاویر دنیا تک پہنچاتے ہیں؟

فی الحال اس معاملے کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ لباس سے متعلق ایک ضابطہ سوشل میڈیا پر بڑے تنازع کی وجہ بنا اور بالآخر کلب کو اپنی پالیسی واپس لینا پڑی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں