نومی سمندر کے کنارے اکیلی بیٹھی تھی۔ زندگی نے پچھلے چند ہفتوں میں اسے کئی زخم دیے تھے۔ پہلے رشتہ ٹوٹا، پھر ملازمت بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ وہ سب کچھ بھلا کر کچھ دیر سکون چاہتی تھی۔
اچانک سمندر کی لہروں سے ایک بھیڑیا نکل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
نومی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس نے بھاگنے کا سوچا، مگر بھیڑیا نہ غرّایا، نہ اس پر جھپٹا۔ وہ بس اسے دیکھتا رہا، پھر چند قدم آگے بڑھ کر رک گیا، جیسے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ دے رہا ہو۔
’’یہ کیا چاہتا ہے؟‘‘ نومی نے دل ہی دل میں سوچا۔
وہ جانتی تھی کہ بھیڑیے خطرناک جنگلی جانور ہیں۔ لیکن پھر اسے ہوا کے ساتھ ایک کمزور سی چیخ سنائی دی۔ بھیڑیا بے چینی سے آگے بڑھا اور بار بار پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔
نومی نے ہمت کی اور اس کے پیچھے چل پڑی۔
چٹانوں کے پار پہنچتے ہی اس کے قدم رک گئے۔ پانی میں ماہی گیری کے ایک پرانے جال میں بھیڑیے کا ننھا سا بچہ پھنسا ہوا تھا۔ وہ سانس لینے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ اس کی ماں بے بسی سے جال نوچ رہی تھی، مگر اسے آزاد نہیں کرا پا رہی تھی۔
اب نومی سمجھ گئی کہ بھیڑیا اس کے پاس کیوں آیا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ پانی میں اتری۔ ماں بھیڑیے نے غرّا کر اسے خبردار کیا، مگر نومی نے دھیمی آواز میں کہا، ’’میں تمہارے بچے کو بچانے آئی ہوں۔‘‘
کانپتے ہاتھوں سے اس نے جال کھینچنا شروع کیا۔ جال چٹانوں میں بری طرح الجھا ہوا تھا۔ چند لمحوں کے لیے اسے لگا کہ شاید وہ دیر کر چکی ہے، لیکن آخرکار جال ڈھیلا پڑ گیا اور ننھا بھیڑیا آزاد ہو گیا۔
بچہ لڑکھڑاتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا۔ نومی پیچھے ہٹ گئی، اسے ڈر تھا کہ کہیں ماں بھیڑیا اس پر حملہ نہ کر دے۔
مگر اگلے ہی لمحے ایک حیرت انگیز منظر سامنے آیا۔
ماں بھیڑیے نے اپنے بچے کو گردن کی کھال سے نرمی سے پکڑا، پھر چلنے لگی۔ کچھ دور جا کر وہ رکی، پلٹی اور نومی کی طرف دیکھا۔ ننھے بھیڑیے نے بھی اپنا سر اس کی سمت موڑا۔
چند لمحوں تک دونوں کی نظریں نومی پر جمی رہیں، پھر وہ درختوں کے درمیان غائب ہو گئے۔
نومی خاموش کھڑی سمندر کی لہروں کو دیکھتی رہی۔ وہ یہاں اپنے دکھ بھلانے آئی تھی، مگر اسے احساس ہوا کہ آج اس نے کسی کی زندگی بچا کر اپنے دل میں بھی ایک نئی روشنی محسوس کی ہے۔
تبھی دور جنگل سے بھیڑیے کی آواز سنائی دی۔
نومی مسکرائی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس آواز کا مطلب کیا تھا، مگر اس کا دل کہہ رہا تھا کہ شاید وہ بھیڑیا اسے الوداع نہیں، بلکہ شکریہ کہہ رہا تھا۔



