Blue and Green Passport

اشرافیہ کا نیلا پاسپورٹ اور عوام کا سبز المیہ

پاکستان میں جب عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی، بجلی کے بل اور بنیادی جان بچانے والی ادویات ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہیں، تب اقتدار کے ایوانوں سے ترجیحات کی جو جھلک سامنے آتی ہے وہ دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے جس عجلت اور یکسوئی کے ساتھ سینیٹرز کے لیے تاحیات بلیو (آفیشل) پاسپورٹ کی منظوری دی ہے، وہ ملکی معاشی ابتری اور آئینی روح دونوں کے چہرے پر ایک کھلا طمانچہ ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ رہی کہ اس استحقاق کو سینیٹرز کے بچوں تک پھیلانے کی سفارشات بھی زیرِ بحث لائی گئیں، گویا پارلیمان عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ موروثی مراعات اور شاہی پروانے بانٹنے کے لیے وجود میں آئی تھی۔

آفیشل یا بلیو پاسپورٹ کوئی اعزازی تحفہ یا خاندانی تمغہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ریاست کی نمائندگی، سرکاری ذمہ داری اور قانونی فرائض کی بجا آوری کے لیے جاری کیا جانے والا سفری دستاویز ہے۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں جیسے ہی کوئی رکنِ پارلیمان یا افسر اپنے عہدے کی مدت پوری کرتا ہے، اس کا سفارتی یا سرکاری پاسپورٹ منسوخ کر دیا جاتا ہے اور وہ دیگر تمام شہریوں کی طرح عام پاسپورٹ کا حامل بن جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایوانِ بالا کے معزز اراکین عوامی نمائندگی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایک خاص طبقہ بنے رہنے کے لیے قانون سازی کا سہارا لے رہے ہیں۔

اس غیر دانشمندانہ اقدام کے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین نقصانات مرتب ہوں گے:

سبز پاسپورٹ کی عالمی بے توقیری میں اضافہ: دنیا پہلے ہی پاکستان کے سبز پاسپورٹ کو ویزا پابندیوں، کڑی اسکریننگ اور کم ترین رینکنگ کے درجے پر دیکھتی ہے۔ جب ملک کی اعلیٰ قیادت اور قانون ساز خود عام پاسپورٹ کو اپنے لیے تحقیر کا باعث سمجھ کر تاحیات نیلے پاسپورٹ کے خول میں پناہ لیں گے، تو دنیا ہمارے عام شہریوں کو کس عزت کی نگاہ سے دیکھے گی؟

آئین کی بنیادی دفعات کی پامالی: آئینِ پاکستان کی دفعہ 25 تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور قانون کی نظر میں برابری کی ضمانت دیتی ہے۔ ایک منتخب یا ریٹائرڈ نمائندے کو تاحیات ایسی مراعات دینا جو باقی 24 کروڑ عوام کے لیے ناپید ہوں، براہِ راست ریاست کے بنیادی عمرانی معاہدے کی نفی ہے۔

قومی وسائل پر غیر ضروری بوجھ اور بدانتظامی: نادرا اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں پہلے ہی عام شہری مہینوں قطاروں میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، پاسپورٹ بکلیٹس کی قلت کے بہانے بنائے جاتے ہیں، مگر خواص کے لیے تاحیات دستاویزات اور ان کے پروٹوکول کا تمام تر بوجھ قومی خزانے اور انتظامی وسائل پر لادا جا رہا ہے۔

عوامی بیزاری اور ریاستی اعتماد کا زوال: عوام جب یہ دیکھتے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور گیس و بجلی کی قلت پر بحث کے بجائے پارلیمان اپنے ہی نجی استحقاق کو تحفظ دے رہی ہے، تو جمہوریت اور ریاستی اداروں پر سے عوام کا بچا کچا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔
اس تمام منظرنامے کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی طبقہ بدستور گہرے فکری تضاد اور نوآبادیاتی ذہنیت کا شکار ہے۔ اگر سینیٹرز پارلیمان میں بیٹھ کر پاکستان کو دنیا کا ایک معزز اور محفوظ ملک بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں، تو پھر ریٹائرمنٹ کے بعد سبز پاسپورٹ اٹھا کر سفر کرنے میں انہیں کیا عار اور خوف لاحق ہے؟ اگر ملک کے پاسپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹرز پر تذلیل کا سامنا ہے، تو قانون سازوں کا کام اس پاسپورٹ کی عالمی ساکھ کو بحال کرنا تھا، نہ کہ اپنے لیے فرار کے نیلے راستے قانونی شکل میں تراشنا۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس استحقاق کو سینیٹرز کے بچوں تک بڑھانے کی مخالفت خوش آئند ضرور ہے، مگر اصل مرض اس مراعات یافتہ طبقے کی سوچ میں ہے جو پارلیمان کو عوامی خدمت کے بجائے ملوکیت کا تسلسل سمجھتی ہے۔ اگر پارلیمان واقعی عوام کی نمائندہ ہے، تو اس بل کو فوری طور پر ردی کی ٹوکری کی نذر ہونا چاہیے، ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ جب پاکستان کے عوام بنیادی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، تب ایوانِ بالا کے معززین اپنے خاندانوں کے لیے تاحیات وی آئی پی پروانے چھاپ رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں