پاکستانی سیاست میں اصولوں اور نظریات کی تعریف وقت، ضرورت اور کرسی کے فاصلے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ جب مسلم لیگ (ن) اقتدار کے ایوانوں سے باہر دھکیلی گئی، تو قائدِ محترم میاں نواز شریف کو گوجرانوالہ کے جلسے میں ملکی تاریخ کے سب سے سخت الفاظ یاد آئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے حاضر سروس جرنیلوں کے نام لے کر للکارا گیا، ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ گلی گلی گونجا اور جمہوریت کے تمام تر بحرانوں کا ذمہ دار مخصوص شخصیات اور ان کے اداروں کو ٹھہرایا گیا۔ اس وقت نہ کوئی مصلحت آڑے آئی، نہ قومی یکجہتی خطرے میں پڑی، اور نہ ہی نظام کے ڈی ریل ہونے کا کوئی خوف لاحق ہوا۔ تب وہ ’تاریخی جدوجہد‘ کہلائی۔
لیکن آج، جب اقتدار کی چھتری سر پر آ چکی ہے، تو پیمانے بدل گئے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ فرماتے ہیں کہ “مولانا نے نواز شریف کے جس بیان کا حوالہ دیا، اس وقت حالات اور تھے، اور باجوہ و فیض ذاتی طور پر ملوث تھے”۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں حق اور سچ کی کوئی ایک مستقل تعریف ہے، یا سچ صرف وہی ہے جو میاں نواز شریف کی زبان سے نکلے؟ کیا نواز شریف کا غصہ اور احتجاج آئینی جدوجہد تھا، لیکن آج جب وہی مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے اسی بیانیے کو دہراتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی پر بولتے ہیں، تو وہ “وقت اور حالات سے نابلد” اور “قومی یکجہتی کے دشمن” بن جاتے ہیں؟
رانا ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ وہ “باجوہ اور فیض کا ذاتی عمل تھا”، دراصل نواز شریف کے اس تاریخی یوٹرن پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے جس نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کو دفن کر دیا۔ اگر وہ واقعی دو افراد کا ذاتی عمل تھا، تو پوری جماعت نے نظام کے خلاف بغاوت کا چورن عوام کو کیوں بیچا؟ اور جب میاں صاحب خود اقتدار کے دروازے کھلتے ہی انہی قوتوں کے ساتھ ایک پیج پر براجمان ہو گئے، تو پھر اصول کہاں گئے؟ کیا نواز شریف کو یہ حق حاصل ہے کہ جب وہ تنہا ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف طبلِ جنگ بجائیں، اور جب ڈیل ہو جائے تو اسے ’وسیع تر ملکی مفاد‘ کا نام دے کر دوسروں کو خاموش رہنے کی تلقین کریں؟
آج مولانا فضل الرحمان اگر خیبر پختونخوا کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکز کی زبردستیوں یا ممکنہ گورنر راج کی مخالفت کرتے ہیں، تو ن لیگ کو اچانک “قومی یکجہتی” یاد آ جاتی ہے۔ نواز شریف صاحب جب اپنے خلاف آنے والے عدالتی فیصلوں کو پنجاب کی توہین قرار دے کر جی ٹی روڈ پر نکلے تھے، تب صوبائیت کا کوئی شائبہ نہ تھا؟ جب ن لیگ کا مفاد داؤ پر لگا تھا تو سڑکوں پر انقلاب کی نوید سنائی جا رہی تھی، لیکن آج جب ایک صوبے کے مینڈیٹ اور حقِ خودارادیت کی بات کی جا رہی ہے، تو مولانا کا مؤقف ریاست کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دہرا معیار ہی دراصل مسلم لیگ (ن) اور میاں نواز شریف کی سیاست کا المیہ ہے۔ وہ کل بھی حق پر تھے جب وہ فوج کے سربراہوں کے نام لے رہے تھے، وہ آج بھی حق پر ہیں جب وہ انہی اداروں کی بیساکھیوں پر کھڑے ہیں؛ لیکن جو شخص آج انہی کے پرانے الفاظ دہرا کر ان کا چہرہ آئینے میں دکھا رہا ہے، وہ “غصے میں ہے اور جلد نارمل ہو جائے گا”۔
سیاست میں سمجھوتے ضرور ہوتے ہیں، مگر خود کو حق کا واحد معیار سمجھ لینا سیاسی تکبر کی بدترین مثال ہے۔ مولانا فضل الرحمان پر سیاسی اختلاف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن رانا ثناء اللہ کا دفاع اور نواز شریف کی یہ خاموشی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ن لیگ کے نزدیک اصول صرف اس وقت تک معتبر ہیں جب تک وہ اقتدار کے حصول میں مددگار ہوں۔ اقتدار مل جانے کے بعد، ماضی کے تمام انقلابی نعرے صرف “اس وقت کے حالات” بن کر تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے جاتے ہیں۔
