دنیا کا وہ ملک جہاں صحرا وقت پر راج کرتا ہے

ذرا تصور کریں ، ایک ایسا ملک کا،، جہاں سیکڑوں کلومیٹر تک صرف سنہری ریت دکھائی دیتی ہے، جہاں رات کے اندھیرے میں آسمان اتنا صاف ہوتا ہے کہ یوں محسوس ہو جیسے پوری کہکشاں زمین کے بالکل قریب آ گئی ہے، جہاں ہزار سال پرانے شہر آج بھی خاموشی سے کھڑے ہیں، مگر ان کی گلیاں اب انسانوں سے زیادہ ہوا، اور ریت کی آوازیں سنتی ہیں۔۔
یہ کوئی فلمی منظر نہیں ، یہ ہے موریطانیہ
ایک ایسا ملک جس کے بارے میں دنیا بہت کم جانتی ہے، حالانکہ اس کی سرزمین میں ہزاروں سال کی تاریخ دفن ہے،موریطانیہ کا تقریباً نوے فیصد حصہ صحرائے صحارا میں واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی تعداد حیران کن حد تک کم ہے، ہر سال صرف چند ہزار لوگ ہی اس ملک کا رخ کرتے ہیں، جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک میں لاکھوں سیاح پہنچتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے،،آخر ایسا کیا ہے جو موریطانیہ کو دنیا کے سب سے پراسرار ممالک میں شامل کرتا ہے؟
اس راز کی تلاش ہمیں لیے چلتی ہے ملک کے شمال مغربی ساحل پر، جہاں بحرِ اوقیانوس کی لہریں صحرا سے آ کر ملتی ہیں۔
یہ ہے شہر نواذیبو۔۔دور سے دیکھیں تو عام سا بندرگاہی شہر لگتا ہے، لیکن جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ایک حیران کن منظر سامنے آتا ہے۔ہزاروں ماہی گیروں کی کشتیاں ایک ساتھ سمندر میں تیر رہی ہوتی ہیں۔اتنی زیادہ کہ جدید سیٹلائٹ تصاویر میں بھی ان کا ہجوم صاف دکھائی دیتا ہے۔یہ منظر صرف خوبصورت نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ سخت ترین صحرا کے کنارے بھی زندگی پوری طاقت سے دھڑک رہی ہے۔مگر موریطانیہ کی اصل کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔اسی کہانی کا پیچھا کرتے ہوئے ہم دارالحکومت نوواکشوط پہنچتے ہیں ۔۔جہاں پہنچتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی اور زمانے میں داخل ہو گئے ہیں۔ایک طرف جدید عمارتیں ،دوسری طرف ریت سے بھری گلیاں اور ان گلیوں میں چلتے ہوئے اونٹ ایسے نظر آتے ہیں جیسے شہر نے ابھی تک صحرا سے اپنا رشتہ توڑا ہی نہ ہو،یہاں ایک عجیب سی سادگی ہے،لوگ جلدی میں نہیں ہوتے،زندگی کی رفتار سست ضرور ہے، مگر بے حد پُرسکون ہے ،یہاں اگر کوئی اجنبی راستہ پوچھ لے تو بعض اوقات لوگ صرف منزل بتاتے نہیں، خود ساتھ چل پڑتے ہیں،شاید یہی وہ خوبی ہے جسے مہمان نوازی کہتے ہیں،لیکن موریطانیہ کی روح شہر میں نہیں ،صحرا کے سینے میں چھپی ہے،جیسے جیسے سفر مشرق کی طرف بڑھتا ہے، پکی سڑکیں ختم ہونے لگتی ہیں،ریت کے بے شمار ٹیلے سامنے آتے ہیں،اور پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا پیچھے رہ گئی ہے،گھنٹوں سفر کے بعد اچانک افق پر مٹی سے بنی سرخ عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔۔
جی ہاں یہ ہے شہر ولاتہ ۔ایک ایسا شہر جو کبھی صحارا پار تجارتی قافلوں کا اہم پڑاؤ تھا، ہزاروں اونٹ نمک، سونا، ہاتھی دانت اور قیمتی کتابیں لے کر انہی گلیوں سے گزرتے تھے، رات کے وقت چراغوں کی روشنی میں بازار آباد ہوتے تھے،علما بحث کرتے تھے،تاجر سودے طے کرتے تھے،اور دور دراز ملکوں سے آنے والے مسافر یہاں آرام کیا کرتے تھے،آج وہی گلیاں خاموش ہیں،ہوا چلتی ہے تو پرانی دیواریں جیسے ماضی کی کہانیاں سنانے لگتی ہیں،اس شہر کی سب سے قیمتی دولت سونا نہیں ،بلکہ وہ قدیم مخطوطات ہیں جو سیکڑوں برس سے خاندان اپنے گھروں میں سنبھالے ہوئے ہیں،یہ کتابیں صرف مذہبی علوم پر نہیں بلکہ فلکیات، ریاضی، طب، شاعری اور فلسفے پر بھی لکھی گئی تھیں،ان صفحات کو ہاتھ لگاتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت اچانک رک گیا ہو،لیکن صحرا کی ایک اور داستان ابھی باقی ہے۔۔
یہ داستان ہے شنقیط شہر کی ۔۔۔کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں اگر کوئی علم حاصل کرنا چاہتا تو اس کا سفر شنقیط پر آ کر ضرور رکتا تھایہ شہر صرف تاجروں کا نہیں ،علم کا بھی مرکز تھا،یہاں کے کتب خانے آج بھی ہزاروں قدیم کتابوں کی حفاظت کر رہے ہیں،لیکن ان کتابوں کا سب سے بڑا دشمن کوئی انسان نہیں ، بلکہ صحرا خود ہے ،ہر سال ریت کے ٹیلے چند قدم اور آگے بڑھ جاتے ہیں،کچھ گھر آدھے دفن ہو چکے ہیں،کچھ دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں اور کچھ گلیاں اب نقشوں میں تو موجود ہیں، مگر زمین پر نہیں،یوں لگتا ہے جیسے صحرا آہستہ آہستہ پورے شہر کو اپنی آغوش میں لے رہا ہو،پھر بھی لوگ یہاں سے جانا نہیں چاہتے،کیونکہ ان کے لیے یہ صرف ایک شہر نہیں،ان کی پہچان ہے،موریطانیہ کی ایک اور حیرت انگیز حقیقت اس کے اونٹ ہیں،یہاں لاکھوں اونٹ موجود ہیں،یہ صرف جانور نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہیں،سفر بھی انہی سے،تجارت بھی انہی سے،اور بعض دور دراز علاقوں میں آج بھی نگرانی انہی کے ذریعے کی جاتی ہے،اونٹوں کے بازار میں داخل ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے صدیوں پرانا زمانہ اچانک زندہ ہو گیا ہو،سودے ہاتھ ملا کر طے ہوتے ہیں،اور ہر اونٹ کی اپنی الگ قیمت اور اپنی الگ کہانی ہوتی ہے۔۔
لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صحرا صرف ریت کا نام ہے،تو آپ غلط ہیں،صحرا کے بیچوں بیچ اچانک سبز درختوں کا ایک جھنڈ نمودار ہوتا ہے،یہ ہیں موریطانیہ کے نخلستان،یہاں ٹھنڈا پانی بہتا ہے،کھجوروں کے درخت سایہ دیتے ہیں،اور پرندوں کی آوازیں اس خاموش صحرا کو زندگی بخش دیتی ہیں،ترجیت کا نخلستان انہی میں سے ایک ہے،یہاں بیٹھ کر انسان بھول جاتا ہے کہ چند کلومیٹر دور دنیا کے سخت ترین موسمی حالات موجود ہیں،شاید یہی وجہ ہے کہ صدیوں پہلے بھی قافلے یہاں رکتے تھے،تھکن اتارتے تھے،پانی بھرتے تھے اور پھر اگلے سفر پر روانہ ہو جاتے تھے،موریطانیہ صرف ایک ملک نہیں،یہ صبر کی داستان ہے،یہ ثابت قدمی کی مثال ہے،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی وہاں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے جہاں بظاہر کچھ بھی ممکن نظر نہیں آتا،آج جب دنیا کے مشہور سیاحتی مقامات ہجوم سے بھر چکے ہیں، موریطانیہ اب بھی خاموش کھڑا ہے،اپنے راز سینے میں چھپائے،اپنی تاریخ کو سنبھالے، اور ان چند خوش نصیب مسافروں کا انتظار کرتا ہوا جو صرف تصویریں کھینچنے نہیں، بلکہ تاریخ کو محسوس کرنے آتے ہیں،شاید اسی لیے جو شخص ایک بار موریطانیہ کو دیکھ لیتا ہے، وہ صرف ایک ملک دیکھ کر واپس نہیں آتا،وہ اپنے ساتھ ایک احساس لے کر لوٹتا ہے کہ دنیا میں ابھی بھی ایسے گوشے موجود ہیں جہاں وقت نے اپنی رفتار بدلنے سے انکار کر دیا ہے،ور شاید اسی لیے موریطانیہ دنیا کے سب سے پراسرار، سب سے منفرد اور سب سے کم دریافت کیے گئے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں